ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سدرامیا اور وزراء پر الزامات بے بنیاد، ثبوت ہے تو بی جے پی منظرعام پر کیوں نہیں لاتی؟ : پرمیشور

سدرامیا اور وزراء پر الزامات بے بنیاد، ثبوت ہے تو بی جے پی منظرعام پر کیوں نہیں لاتی؟ : پرمیشور

Sat, 19 Aug 2017 01:11:25    S.O. News Service

بنگلورو:18/اگست(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا یا ریاست کا کوئی وزیر کرپشن میں ملوث ہے تو بی جے پی تمام ثبوت کے ساتھ الزامات منظر عام پر لائے ، صرف خیالی باتیں کرنے سے اس کا کوئی یقین نہیں کرے گا۔ یہ بات آج کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کو انہوں نے چیلنج کیا کہ سدرامیا یا دیگر ریاستی وزراء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کا اگر ٹھوس ثبوت ہے تو وہ منظر عام پر لانے کی جرأت کریں ، اور یہ واضح کریں کہ کہاں کرپشن ہوا ہے اور اس میں کون کون شامل ہے۔ اگر یڈیورپا ثبوت منظر عام پر لائے تو کانگریس خاطیوں کو نہیں بخشے گی، اگر نہیں لائے تو یڈیورپا کو سرگرم سیاست سے کنارہ کش ہوجانا چاہئے۔ آج کے پی سی سی دفتر میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یڈیورپا کے الزامات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بھرم میں مبتلا ہوچکے ہیں اور حقائق سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات ایک اٹل حقیقت ہوچکی ہے کہ ریاست میں کانگریس اقتدار پر برقرار رہے گی۔اس حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے یڈیورپا کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف بے بنیاد الزامات لگانا شروع کرچکے ہیں۔یڈیورپا اگر اسی طرح کے الزامات لگاتے رہیں تو اس سے بی جے پی کو نہیں، بلکہ کانگریس ہی کو فائدہ ہوگا۔ ریاستی وزراء ڈی کے شیوکمار اور رمیش جارکی ہولی کو برطرف کرنے بی جے پی کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ان وزراء کو نشانہ بنانے مرکزی حکومت نے کس طرح محکمۂ انکم ٹیکس کا غلط استعمال کیا یہ عوام پر ظاہر ہوچکا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے آئینی اداروں کے غلط استعمال کے خلاف کانگریس جوابی احتجاج شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمۂ انکم ٹیکس کو انکم ٹیکس کی چوری کرنے والوں پر چھاپوں کا پورا اختیار ہے، لیکن جس انداز سے چھاپے مارے گئے اور اراکین اسمبلی کو جس طرح کا لالچ انکم ٹیکس افسران کی طر ف سے دیاگیا وہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔ پرمیشور نے کہاکہ انکم ٹیکس افسران جب کسی مقام پر چھاپے مارتے ہیں تو وہاں سے کیا ضبط ہوا ، کتنی دولت برآمد ہوئی ، اس کی کوئی تفصیل نہیں دی جاتی، لیکن بی جے پی لیڈران اس کی تفصیلات بیان کرکے اپنے جھوٹے ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ اگر بی جے پی لیڈران سچ کہہ رہے ہیں تو محکمۂ انکم ٹیکس نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں سمجھوتہ کرلیا ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ریاست میں چونکہ انتخابی سال چل رہاہے، بی جے پی کی طرف سے اس طرح کے ہتھکنڈوں کے استعمال کا خدشہ کانگریس کو بہت پہلے ہی سے تھا۔ چونکہ ریاست میں بی جے پی کا جھوٹ چلنے والا نہیں ہے،اسی لئے وہ سرکاری ایجنسیوں کے غلط استعمال کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش بسیار کررہی ہے۔ جنتادل (ایس) کے سات باغی اراکین اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت کے متعلق ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ یہ تمام اراکین اپنی مرضی سے کانگریس میں شامل ہونے آگے آئے ہیں۔ کل ان تمام اراکین کا کانگریس نائب صدر راہول گاندھی سے تعارف کروایا گیا ۔آنے والے دنوں میں جیت کی اہلیت رکھنے والے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دے گی۔ 


Share: